:
Breaking News

قومی خبریں: دہلی مظاہروں پر سپریم کورٹ سخت، میٹرو، انٹرنیٹ اور شہریوں کی آمدورفت معمول پر رکھنے کی ہدایت

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی میں CJP احتجاج کے دوران میٹرو سروس، انٹرنیٹ بندش اور گرفتاریوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے مرکز اور متعلقہ حکام سے منگل تک جواب طلب کیا۔

نئی دہلی، 11 اکتوبر: دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران میٹرو اور ٹرین خدمات میں رکاوٹ، انٹرنیٹ بندش اور مظاہرین کو حراست میں لینے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اتوار کو خصوصی سماعت کی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ میٹرو خدمات معمول کے مطابق چلنی چاہئیں، انٹرنیٹ خدمات متاثر نہیں ہونی چاہئیں اور شہریوں کی آمدورفت میں غیر ضروری رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیے۔


جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مرکز اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل تک جواب داخل کرنے کو کہا۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ 9 اکتوبر کے سابقہ حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔


### میٹرو بندش کے معاملے پر عدالت کی سخت ہدایت


درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ 9 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ دہلی میں احتجاج کے پیش نظر میٹرو اور ریلوے خدمات کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود 10 اکتوبر کو متعدد میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیاں لگائی گئیں اور ٹرین خدمات بھی متاثر ہوئیں۔


درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اس سے شہریوں کو شدید پریشانی ہوئی اور عدالت کے سابقہ حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے۔ عدالت نے مرکز اور متعلقہ حکام سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔


سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکز اور دہلی پولیس کی جانب سے موقف پیش کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بحال کر دی گئی ہیں اور تمام میٹرو اسٹیشن اور ٹرینیں دوبارہ چل رہی ہیں۔


### ڈی ایم آر سی سے میٹرو اسٹیشنوں کا نقشہ طلب


سپریم کورٹ نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) سے ایسا نقشہ پیش کرنے کو کہا ہے جس میں بتایا جائے کہ احتجاج کے دوران کون سے میٹرو اسٹیشن بند رہے اور کون سے کھلے تھے۔


سالیسٹر جنرل کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً 10 بجے تک تمام میٹرو اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے تھے اور انٹرنیٹ خدمات بھی بحال ہو چکی تھیں۔ عدالت نے اس معاملے میں حکام سے پہلے کے حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔


عدالت کا زور اس بات پر رہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی اور آمدورفت مکمل طور پر مفلوج نہیں ہونی چاہیے۔


### پرامن مظاہرین کو غیر ضروری طور پر حراست میں نہ لیا جائے


سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ دہلی میں شہریوں کی آمدورفت قانون کے مطابق جاری رہنی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر کسی کو حراست میں نہیں لیا جانا چاہیے، خصوصاً ان افراد کو جو دفعہ 163 کے تحت پابندی والے علاقوں سے باہر پرامن اور غیر مسلح احتجاج کر رہے ہوں۔


عدالت نے سپریم کورٹ کے احاطے اور اس کے آس پاس دفعہ 163 کے نفاذ سے متعلق لگائے گئے بورڈ اور نوٹس ہٹانے کی بھی ہدایت دی، اگر وہ اب تک موجود ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں میں آنے جانے والے وکلا، صحافیوں اور عام شہریوں کے درمیان کسی قسم کی غیر ضروری الجھن یا خوف پیدا نہ ہو۔


سماعت کے دوران سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کی آمدورفت بحال کرنے، بیریکیڈ ہٹانے اور میٹرو خدمات معمول پر لانے کے لیے فوری ہدایات جاری کی جائیں۔


### حکام سے منگل تک جواب طلب


عدالت نے مرکز اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ حلف نامہ داخل کریں اور بتائیں کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ حکام کو منگل تک عبوری جواب دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔


یہ کارروائی ان درخواستوں کے بعد ہوئی جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ 9 اکتوبر کے عدالتی حکم کے باوجود احتجاج کے دن میٹرو اور ریلوے خدمات پر ایسی پابندیاں لگائی گئیں جن سے عام شہریوں کو پریشانی ہوئی۔ ان الزامات پر حکام کا جواب عدالت کے سامنے آنا ابھی باقی ہے۔


### تین CJP رہنما بھی رہا


اس سے قبل مجسٹریٹ عدالت نے CJP کے رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو اتوار کی صبح تقریباً 10 بجے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تینوں تقریباً 23 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے۔


ان رہنماؤں کو دہلی میں مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی رہائی بعض شرائط کے ساتھ ہوئی۔ اس معاملے میں بھی پولیس کی کارروائی اور احتجاج کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔


### اب آگے کیا ہوگا؟


سپریم کورٹ نے میٹرو اور انٹرنیٹ خدمات معمول پر رکھنے، شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی پر زور دیا ہے۔ منگل تک مرکز اور متعلقہ حکام کے جواب سے یہ واضح ہو سکے گا کہ احتجاج کے دوران لگائی گئی پابندیوں اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بارے میں حکومت کا مؤقف کیا ہے۔


دہلی میں احتجاج کے انتظام، عوامی سہولت اور پرامن اجتماع کے حق کے درمیان توازن برقرار رکھنا اب اس معاملے کا اہم پہلو بن گیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں: عدالتی فیصلوں، ملک کی سیاست اور عوامی مسائل سے متعلق مزید خبروں کے لیے Alam Ki Khabar کا نیشنل نیوز سیکشن پڑھیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *